چاندنی شب میں چمکتی ہوئی انگنائی کا
آج بھی یاد ہے محشر شبِ تنہائی کا
عشق بھی ایک معمہ ہے اسے یوں سمجھو
ایک احساس ہے اک حسن کے شیدائی کا
یہ بھی ممکن ہے مہِ ناز لبِ بام آئے
ذکر ہر گام پہ ہو حسن کا رعنائی کا
خود کو ہم راندۂ درگاہ کہاں کہتے ہیں
ایک موقع تو ملے در پہ جبیں سائی کا
ہم کو معلوم ہے انجامِ محبت کیا ہے
اک مرکب ہے میاں درد کا، رُسوائی کا
شیوۂ اہلِ سیاست ہی وصی کچھ یوں ہے
یہ تو پربت بھی بنا دیتے ہیں اک رائی کا
وصی بستوی
No comments:
Post a Comment