Wednesday, 9 February 2022

راہ میں گر ہمیں قندیل جلانا ہو گا

 راہ میں گر ہمیں قندیل جلانا ہو گا

ان ہواؤں کو بھی آداب سکھانا ہو گا

آنکھ گر وقت پہ کھل جائے غنیمت سمجھو

ورنہ، آنکھوں سے فقط اشک بہانا ہو گا

جنگ کرنے سے کبھی بات نہیں بن سکتی

بات بن جائے گی، کچھ کہنا سنانا ہو گا

رات نفرت کی کسی طور گزر جانے دو

پھر محبت کا نیا دن بھی سہانا ہو گا

دل نے چاہا بھی مگر ڈر سے میں خاموش رہا

لب کہیں کھول دیا کتنا فسانہ ہو گا

کتنا ہنگامہ ہے آنکھوں سے اشارہ کر دے

باقی تفصیل سے جب ملنا ملانا ہو گا

ہم ہیں بارود کی دہلیز پہ ہی بیٹھے ہوئے

اب ہمیں جشن نہیں خیر منانا ہو گا 


راشد عالم

No comments:

Post a Comment