بے قراری کا سم
عقل حیران ہے، کون سا ایسا نشہ ہے
جس کی للَک میں
زمانے کی یہ بے قراری نہیں جا رہی
کون سی ایسی تاثیر ہے اس فسونِ اجل خیز میں
جس سے سارے ہی انسان بے تاب ہیں
کیا تمنا ہے
سیرابیت جانے کیا چیز ہے
ڈھونڈ کر بھی اسے اس کی ہی آس ہے
کون ہے جس کے موجودگی کے سوا
زندگی ساری بکواس ہے
بے قراری کی سرحد کی حد ہی نہیں
اور اسے ڈھونڈنے میں کوئی رد و کَد ہی نہیں
یاسیت پھیل جاتی ہے نیلے فلک پر
زمیں پر سب اطراف میں
نور ہے وہ خدا اپنے اوصاف میں
بے قراری نہ ہوتی تو دنیا مِرا نام کب جانتی
یہ نہ ہوتی تو میں خود کو کب مانتی
ایک قطرہ گرا خشک صحرا کی تپتی ہوئی خاک پر
گھومنے لگ گئی میری مٹی وہیں چاک پر
قطرہ قطرہ جلا کر بھلے راکھ کر
اے خدا عشق سے خواب کو عاق کر
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment