نزع
ابھی شام پوری ڈھلی نہیں
یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ رات
جو کہیں بے قرار تھی تاک میں
ابھی تاک میں ہے ٹلی نہیں
ابھی مانگ خالی چمک رہی ہے صلیب کی
ابھی راکھ وقت کے ہاتھ میں ہے نصیب کی
کسی بادِ تُند نے آگے بڑھ کے جبینِ غم پہ مَلی نہیں
ابھی شام پوری ڈھلی نہیں
وہ جو رنگ تھے کسی روپ میں
وہ جو انگ تھے کسی باس میں، وہ نہیں رہے
وہ جو اک جلائے بسیط تھی کہیں آس میں
وہ جو نخرہ ہائے ترنگ تھے
مِری جاں تعلقِ خاص میں
وہ نہیں رہے
وہ نہیں رہے کسی چشمِ رمز شناس میں
وہ نہیں رہے
کہیں دور تک کوئی زرد لَو بھی جلی نہیں
ابھی شام پوری ڈھلی نہیں
ابھی سانس تھمنا تو چاہتی ہے تھمی نہیں
ابھی سرد ہونٹوں پہ برف جمنا تو چاہتی ہے جمی نہیں
ابھی ہے رگوں میں، کہیں کہیں کوئی اشکِ خوں
کہیں روشنی کی رمق بھی ہے شبِ تار میں
ابھی سوگواروں کے ہاتھ، کندھے ہیں منتظر کہ سجے نہیں
ابھی ماتمی بھی کھڑے ہوئے ہیں خموش ہو کے قطار میں
کہ یہ پل انہیں بھی جچے نہیں
وہ ہوا خزاؤں کی یخ ہوا
کہ جو ایلچی ہے خموشیوں کے فشار کی
ابھی چل نکلنے کی سوچ میں ہے چلی نہیں
ابھی شام پوری ڈھلی نہیں
ابھی شام پوری ڈھلی نہیں
یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ رات
جو کہیں بے قرار تھی تاک میں
ابھی تاک میں ہے ٹلی نہیں
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment