سر جو میرا اب تمہارے پتھروں کی زد پہ ہے
سن رہا ہوں اس کا بھی الزام میرے قد پہ ہے
کون ظالم؟ کون ہے مظلوم؟ اس کا فیصلہ
حشر میں ہو گا مگر اب حشر کی آمد پہ ہے
آسماں سے پھر لہو کی بارشیں ہونے کو ہیں
اک کبوتر آج پھر بیٹھا ہوا برگد پہ ہے
لاش اس کی کھا گئے مل جل کے کالے بھیڑیے
اور اس کی ماں سمجھتی ہے کہ وہ سرحد پر ہے
اپنے اندر جھانکنے کی ان کو فرصت ہی کہاں
جن کی چشم معتبر دنیا کے نیک و بد پہ ہے
جنگ کس نے جیت لی اور ہو گئی کس کو شکست
انحصار اس فیصلے کا جنگ کے مقصد پہ ہے
اب مجھے سچائی کی عظمت کا اندازہ ہوا
اب مِری گردن یزیدی خنجروں کی زد پہ ہے
دیکھیے تو ساری دنیا ہی مہذب ہو چکی
سوچئے تو یہ ابھی تہذیب کی ابجد پہ ہے
تاجروں نے اس کا سون لے لیا مٹی کے مول
بحث فنکاروں میں اب تک اس کے خال و خد پہ ہے
شاعر جمالی
No comments:
Post a Comment