عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دنیا میں کوئی آپﷺ سا ہو گا نہ ہُوا ہے
یہ کُن کی چمک آپ کی ہستی کی ضیا ہے
آئے ہیں زمانے میں زمانے کے لیے آپﷺ
پر آپﷺ کا ہر وصف زمانے سے جدا ہے
محشر میں گھٹا اس پہ ہی برسے گی بقا کی
جو شخص یہاں آپﷺ کی الفت میں فنا ہے
اس سے ہی تو قائم ہے مِری ذات کا احساس
اک ذکرِ محمدﷺ ہے جو ہستی کی بقا ہے
دانائے سبلؐ، ختم رسلؐ، ساقئ کوثرﷺ
ہر وصف بھی ان کا تو زمانے سے جدا ہے
اس شخص کے آگے یہ جہاں جھکتا رہے گا
جو شخص در پاکﷺ پہ اک بار جھکا ہے
فردوسِ بریں ہو یا کہ پھر بابِ حرم ہو
جو کچھ بھی ملا ان کے وسیلے سے ملا ہے
کوثر کا ملے، جام مجھے آپﷺ کے ہاتھوں
بس زبدہ! کے ہونٹوں پہ فقط ایک دعا ہے
زبدہ خان
No comments:
Post a Comment