میں تم سے نہیں بولوں گی
چاند تو نکلے گا مگر روشنی نہیں کر سکے گا
رات کی چادر سے ستارے جھڑیں گے
میں نہیں چنوں گی
دیواریں بہری ہو جائیں گی
تو مجھے ان سے باتیں کرنے کی کیا ضرورت
تصویروں سے رنگ چُرا لیے جائیں گے
تو میں خاکے بنا لوں گی
نغمے نوحے بن جائیں گے
پھر بھی میں انہیں گنگناؤں گی
میں تم سے نہیں بولوں گی
سو مصنوعی طریقے ہیں
بارش کے بنا بھی فصل تیار ہو جاتی ہے
میں تمہیں نہیں رووں گی
گوڈی کے بغیر بھی کپاس کے پھول کِھل سکتے ہیں
مگر یہ عورتوں کے بغیر چُنے نہیں جا سکتے
کیونکہ یہ سستی مزدور ہے
یہ دنیا ہے اس میں
کوئی چیز ضروری نہیں
میں جانتی ہوں کہ محرومی بھی ایک نعمت ہے
میں اس وقت بھی زندہ تھی
جب میں محرومی کی نعمت سے بھی محروم تھی
تمہارے بغیر بھی ہنسا جا سکتا ہے
خوش رہا جا سکتا ہے
میں تم سے نہیں بولوں گی
آگ لگانے کے لیے ماچس اور
آگ بجھانے کے لیے پانی ضروری نہیں
بس مجھے تھوڑی سے لکڑیاں درکار ہیں
جو میں یادوں کے جنگل سے چُن لاؤں گی
یہ جنگل تمہاری ملکیت نہیں
میں تم سے نہیں بولوں گی
مسافروں کے بغیر گاڑیاں اور
قاضی کے بغیر عدالتیں چل رہی ہیں
خدا کی موجودگی میں ظلم ہو رہا ہے
میں تمہاری عدم موجودگی اور
خدا کی موجودگی میں فرق تلاش کروں گی
میں تم سے نہیں بولوں گی
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment