یہ تو اب جا کے جنوں میں نے اتارا سر سے
ورنہ در کھولنا آتا ہے مجھے ٹھوکر سے
کس کو معلوم کہ ہم کتنے بھرے بیٹھے ہیں
کس نے دیکھا ہے چٹانوں کا خلا اندر سے
منظرِ شامِ غریباں ہے دَمِ رخصتِ خواب
تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے
بعض اوقات خوشی چُھو کے گزر جاتی ہے
رہ بھی جاتی ہے کبھی لاٹری اک نمبر سے
بے تکلف ہے بہت مجھ سے اداسی میری
مسکراؤں تو پکڑتی ہے مجھے کالر سے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment