Sunday, 6 February 2022

یہ تو اب جا کے جنوں میں نے اتارا سر سے

یہ تو اب جا کے جنوں میں نے اتارا سر سے

ورنہ در کھولنا آتا ہے مجھے ٹھوکر سے

کس کو معلوم کہ ہم کتنے بھرے بیٹھے ہیں

کس نے دیکھا ہے چٹانوں کا خلا اندر سے

منظرِ شامِ غریباں ہے دَمِ رخصتِ خواب

تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے

بعض اوقات خوشی چُھو کے گزر جاتی ہے

رہ بھی جاتی ہے کبھی لاٹری اک نمبر سے

بے تکلف ہے بہت مجھ سے اداسی میری

مسکراؤں تو پکڑتی ہے مجھے کالر سے


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment