گنتی کے کچھ دوست مِرے گھر آتے ہیں
لیکن جو آتے ہیں،۔ اکثر آتے ہیں
اس دن سب کچھ اور بھی مشکل لگتا ہے
جس دن تجھ سے لڑ کر دفتر آتے ہیں
ایک تمہاری یاد اچانک آتی ہے
ورنہ سب مہمان بتا کر آتے ہیں
اس کے پیچھے ہاتھ کسی استاد کا ہے
جتنے اس لڑکی کے نمبر آتے ہیں
اس کی آنکھیں کافر ہیں، دل مسلم ہے
اس کو سب ادیان برابر آتے ہیں
علی ارتضیٰ
No comments:
Post a Comment