Sunday, 6 February 2022

رابطے بھلے نہ ہوں چاہتیں تو رہتی ہیں

 رابطے بھلے نہ ہوں چاہتیں تو رہتی ہیں

درد کے توسط سے نِسبتیں تو رہتی ہیں

چھوڑ جانے والوں کو روک تو نہیں سکتے

مدتوں مگر ان کی عادتیں تو رہتی ہیں

آنکھ خون روتی ہے دل کہ بس تڑپتا ہے

خیر اس سے یاں دائم عبرتیں تو رہتی ہیں

اب بھی گر کبھی ان سے راہ چلتے ملنا ہو

دو قدم سہی لیکن راحتیں تو رہتی ہیں

روز نئی مصیبت پہ اب نہیں تعجب کچھ

ظلمتوں کی بستی میں آفتیں تو رہتی ہیں

رات پھیلتی ہے جب میرا ساتھ دینے کو

میرے گھر کے آنگن میں وحشتیں تو رہتی ہیں

ہار کر بھی کاشف ہے خوش مگر حقیقت ہے

خواہشوں کی پُٹلی میں رِفعتیں تو رہتی ہیں


کاشف رانا

No comments:

Post a Comment