رابطے بھلے نہ ہوں چاہتیں تو رہتی ہیں
درد کے توسط سے نِسبتیں تو رہتی ہیں
چھوڑ جانے والوں کو روک تو نہیں سکتے
مدتوں مگر ان کی عادتیں تو رہتی ہیں
آنکھ خون روتی ہے دل کہ بس تڑپتا ہے
خیر اس سے یاں دائم عبرتیں تو رہتی ہیں
اب بھی گر کبھی ان سے راہ چلتے ملنا ہو
دو قدم سہی لیکن راحتیں تو رہتی ہیں
روز نئی مصیبت پہ اب نہیں تعجب کچھ
ظلمتوں کی بستی میں آفتیں تو رہتی ہیں
رات پھیلتی ہے جب میرا ساتھ دینے کو
میرے گھر کے آنگن میں وحشتیں تو رہتی ہیں
ہار کر بھی کاشف ہے خوش مگر حقیقت ہے
خواہشوں کی پُٹلی میں رِفعتیں تو رہتی ہیں
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment