Sunday, 13 February 2022

برسات یہ بادل یہ ہوا ٹھیک نہیں ہے

 برسات یہ بادل یہ ہوا ٹھیک نہیں ہے

تیری یہ بچھڑنے کی ادا ٹھیک نہیں ہے

پھیلی ہیں وہاں آج وبائیں ہی وبائیں

کہتے ہیں کہ شہروں کی ہوا ٹھیک نہیں ہے

تُو مجھ سے گلے آج مِلا ٹھیک ہے، لیکن

جس طرح تکبر سے مِلا ٹھیک نہیں ہے

کیوں تجھ کو رہی اپنے مقدر سے شکایت

کیا ٹھیک ہے بتلاؤ کہ کیا ٹھیک نہیں ہے

میں سوچتی رہتی ہوں یہی بات کہ فرحت

جو اس نے مجھے دی ہے سزا ٹھیک نہیں ہے


فرزانہ فرحت

No comments:

Post a Comment