برسات یہ بادل یہ ہوا ٹھیک نہیں ہے
تیری یہ بچھڑنے کی ادا ٹھیک نہیں ہے
پھیلی ہیں وہاں آج وبائیں ہی وبائیں
کہتے ہیں کہ شہروں کی ہوا ٹھیک نہیں ہے
تُو مجھ سے گلے آج مِلا ٹھیک ہے، لیکن
جس طرح تکبر سے مِلا ٹھیک نہیں ہے
کیوں تجھ کو رہی اپنے مقدر سے شکایت
کیا ٹھیک ہے بتلاؤ کہ کیا ٹھیک نہیں ہے
میں سوچتی رہتی ہوں یہی بات کہ فرحت
جو اس نے مجھے دی ہے سزا ٹھیک نہیں ہے
فرزانہ فرحت
No comments:
Post a Comment