Saturday, 19 February 2022

ہے اختیار میں تیرے نہ میرے بس میں ہے

 ہے اختیار میں تیرے نہ میرے بس میں ہے

وہ ایک لمحہ جو اوروں کی دسترس میں ہے

وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا کہ پیش و پس میں ہے

بدن کا کرب تو ظاہر نفس نفس میں ہے

اگرچہ شور بہت کوچۂ ہوس میں ہے

وہ کیا کرے کہ جو چالیسویں برس میں ہے

کرے گا کون اسے سازش بدن میں شریک

جو شخص قید ابھی روح کے قفس میں ہے

اٹھو کہ پھر ہمیں اذن سفر ملے نہ ملے

ابھی تو لطف صدا نالۂ جرس میں ہے

اسے پسند کہ وہ ٹوٹ کر گرا ورنہ

شجر میں کیا نہیں ہوتا جو خار و خس میں ہے


پریم کمار نظر

No comments:

Post a Comment