Tuesday, 15 February 2022

ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر

 ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر

راس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھر

خواب کے خدشے سے اب نیند اڑی جاتی ہے

میں نے دیکھا ہے اسے چھوڑ کے جاتا ہوا گھر

گر زباں ہوتی تو پتھر ہی بتاتا سب کو

کس قدر ٹوٹا ہے وہ خود کو بناتا ہوا گھر

اس کا اب ذکر نہ کر چھوڑ کے جانے والے

تُو نے دیکھا ہی کہاں اشک بہاتا ہوا گھر

اب اسے یاد کہوں یاس کہوں یا وحشت

مجھ کو آتا ہے نظر خاک اڑاتا ہوا گھر

تھک گیا کیا مِرے طولانی سفر سے عادل

سو گیا ساتھ مِرے مجھ کو سلاتا ہوا گھر


عادل رضا منصوری

No comments:

Post a Comment