عہدِ ستم تمام ہو لوگوں کو سُکھ ملے
ایسا کوئی نظام ہو لوگوں کو سکھ ملے
عشاق نے چراغ جلائے ہیں اس لیے
انسانیت کا نام ہو لوگوں کو سکھ ملے
الفت کا پھول رنگ بکھیرے ابد تلک
نفرت خیالِ خام ہو لوگوں کو سکھ ملے
کب تک رہیں گے خوار کھلے آسماں تلے
دیوار و سقف و بام ہو لوگوں کو سکھ ملے
تاراج کر کے رکھ دیا ساری زمین کو
اب اس کا اختتام ہو لوگوں کو سکھ ملے
اس سے زیادہ اور نہیں چاہیۓ ہمیں
آدم کا احترام ہو لوگوں کو سکھ ملے
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment