مجھے وقت کے دائروں سے الگ کر دو
کچھ خواب آنکھوں کی دہلیز پہ میں نے سجا رکھے ہیں
آدھی شب کی گہری نیند سے جو مجھے جگانے لگے ہیں
شام کے کہرے میں سمٹے وہ پل
مجھے ڈرانے لگے ہیں
کیسے بتاؤں
قدموں سے لپٹے کئی سفر اب مجھے تھکانے لگے ہیں
سنو
آج میرا کہا کر دو
میرے جسم پر جو سینکڑوں اور جسم ہیں
انہیں اتار دو
اور
مجھے
وقت کے دائروں سے الگ کر دو
نگہت نسیم
No comments:
Post a Comment