Friday, 4 February 2022

کچھ خواب آنکھوں کی دہلیز پہ میں نے سجا رکھے ہیں

 مجھے وقت کے دائروں سے الگ کر دو


کچھ خواب آنکھوں کی دہلیز پہ میں نے سجا رکھے ہیں

آدھی شب کی گہری نیند سے جو مجھے جگانے لگے ہیں

شام کے کہرے میں سمٹے وہ پل

مجھے ڈرانے لگے ہیں

کیسے بتاؤں

قدموں سے لپٹے کئی سفر اب مجھے تھکانے لگے ہیں

سنو

آج میرا کہا کر دو

میرے جسم پر جو سینکڑوں اور جسم ہیں

انہیں اتار دو

اور

مجھے

وقت کے دائروں سے الگ کر دو


نگہت نسیم

No comments:

Post a Comment