Sunday, 17 April 2022

امڈتی بڑھتی گھٹا دن پہ رات کے سائے

 امڈتی بڑھتی گھٹا

دن پہ رات کے سائے

کڑکتی بجلیاں لہرا کے ٹوٹتی برسات

گلی کا موڈ، شکستہ مکاں، ٹپکتی چھت

لباسِ نم میں ٹھٹھرتے ہوئے

جواں دو جسم

حجاب و خوف بھلا کر

لپٹ کے

جلتے ہوئے لب کی آگ پیتے رہے

مکاں ٹھٹھرتا رہا اور مکین جلتے رہے


سلیمان خمار

No comments:

Post a Comment