عارفانہ کلام منقبت سلام بحضور امام حسینؑ
ہلالِ ماہِ محرم طلوع کیا ہُوا ہے
ہر ایک دل میں بپا سوزِ کربلا ہوا ہے
رضائے یار پہ کون اس طرح فدا ہوا ہے
فقط حسینؑ، حسینؑ ابنِ مرتضیٰؑ ہوا ہے
جنابِ من! یہ عقیدت نہیں، عقیدہ ہے
حسینؑ صبر کا انمول معجزہ ہوا ہے
تِرے سوال کی برچھی اتر گئی دل میں
تُو پوچھتا ہے کہ؛ کربل میں ایسا کیا ہوا ہے
دلِ نبیﷺ سے کبھی پوچھ کربلا بارے
تِری نظر میں تو بس ایک واقعہ ہوا ہے
جو صبر وادئ طائف میں بھی نہیں ٹوٹا
وہی حسینؑ کی صورت میں رونما ہوا ہے
نجف سے دور مدینے سے دور میرا امام
گِھرا ہوا ہے لعینوں سے، پر ڈٹا ہوا ہے
یہ کس کے چہرے پہ ضربیں لگائے جاتے ہو
یہ نوجوان تو ہم شکلِ مُصطفیٰﷺ ہوا ہے
یہ کس گلاب کی ننھی سی لاش ہے لوگو
گُلِ بہشت یہ کس ریت پر کِھلا ہوا ہے
بیان کیسے کروں میں شہادتِ قاسمؑ
قلم تو دُور مِرا سانس تک رُکا ہوا ہے
معینِ عشق پکارے کہ؛ دیں پناہ حسینؑ
حسینؑ صِدق ہے، باہو نے بھی لکھا ہوا ہے
فقیر وہ جسے حاصل ہوا شعورِ حسینؑ
ملنگ وہ ہے کہ جس کو یہ در مِلا ہوا ہے
ہمارے نام و عَلَم بھی نہیں گوارا تمہیں
ہمارا غم بھی تمہیں مسئلہ بنا ہوا ہے
کسی کی پیاس کی بے حُرمتی نہیں کرتے
جنہوں نے درس تِرے صبر سے لیا ہوا ہے
مسافروں کو دعائیں یونہی نہیں ملتیں
اسیرِ شام کے صدقے یہ سلسلہ ہوا ہے
وہ لفظ جس کی شباہت بھی خام تھی مولا
وہ تیرے عشق میں آیا تو دیوتا ہوا ہے
تمام سجدہ گزارانِ حق یہ کہتے ہیں
حسینؑ حسنِ عبادت کی انتہا ہوا ہے
جو تیرے عزم کو فِرقوں میں بٹ کے دیکھتا ہے
وہ شخص فکر نہیں، روح سے گھٹا ہوا ہے
کسی بھی حال میں ظلمت نہیں قبول علی
یہ فیصلہ مِرے شبّیرؑ نے دِیا ہوا ہے
علی زریون
No comments:
Post a Comment