عارفانہ کلام منقبت سلام بحضور امام حسینؑ
محبوبِ کبریا کے نواسے حسینﷺ تک
اشکوں نے پھر سفر کیا پیاسے حسین تک
پشتِ رسولؐ کیا، تہِ خنجر بھی دیکھنا
سجدے کا فاصلہ ہے خدا سے حسین تک
کاوش کرے جو زخم تو مرحم سے اس طرف
سو معجزے ہیں خاکِ شفا سے حسین تک
اصغر کو ماں کی گود سے پیاری ہے کربلا
پہنچا یہ پھول اور ادا سے حسین تک
تاریخ چُپ رہی تو لہو بولتا رہا
زندہ ہے عشق کرب و بلا سے حسین تک
طالب حسین طالب
No comments:
Post a Comment