عارفانہ کلام نعتیہ کلام
زہے نصیب جو ہوتی رہے حضورؐ کی نعت
یہ خاکسار بھی لکھتی رہے حضورؐ کی نعت
اسی لیے تو خدا نے پڑھا درود و سلام
کہ کائنات بھی پڑھتی رہے حضورؐ کی نعت
تصورات میں تکتی رہوں کهجور کے پیڑ
تخیلات میں چلتی رہے حضورؐ کی نعت
نبیﷺ کی نعت سے سینہ مِرا منور ہو
بہ فیضِ عشق دمکتی رہے حضورؐ کی نعت
بروزِ حشر وسیلہ ہماری بخشش کا
نہیں بعید کہ بنتی رہے حضورِ کی نعت
علاج روح کی پژمُردگی کا ہے یہ فرح
یہ اہتمام سے سنتی رہے حضورِ کی نعت
فرح شاہ
No comments:
Post a Comment