Saturday, 15 October 2022

رقیب سے وہ نظارے فریب دیتے رہے

 رقیب سے وہ نظارے فریب دیتے رہے

ہمیں تو جھوٹے سہارے فریب دیتے رہے

تلاش کرنے چلے ہم کبھی جو خود کو کہیں

سیاہ رات کے تارے فریب دیتے رہے

وہ پیار جو ہمارا ہاتھ تھام چلتے تھے

فریب دیتے رہے وہ ، ہم فریب کھاتے رہے

وہ اپنے جن کی محبت پہ ناز تھا ان کو

محبتوں کے وہ مارے فریب دیتے رہے


خاور کیانی

No comments:

Post a Comment