رقیب سے وہ نظارے فریب دیتے رہے
ہمیں تو جھوٹے سہارے فریب دیتے رہے
تلاش کرنے چلے ہم کبھی جو خود کو کہیں
سیاہ رات کے تارے فریب دیتے رہے
وہ پیار جو ہمارا ہاتھ تھام چلتے تھے
فریب دیتے رہے وہ ، ہم فریب کھاتے رہے
وہ اپنے جن کی محبت پہ ناز تھا ان کو
محبتوں کے وہ مارے فریب دیتے رہے
خاور کیانی
No comments:
Post a Comment