Saturday, 15 October 2022

پردیسی ہیں لیکن اپنی آب و گل لاہور میں ہے

 پردیسی ہیں لیکن اپنی آب و گِل لاہور میں ہے 

نگری نگری چھان چکے ہیں پر منزِل لاہور میں ہے 

صحرا جنگل پربت گھومے، قریہ قریہ پھول چُنے

لیکن سچ پوچھو تو صاحب! نخلِ دل لاہور میں ہے

ناصر، جالب، ساغر، دانش، فیض و امجد سے استاد 

اردو کا ہر گہرا ساگر اور ساحل لاہور میں ہے 

داتا کے دربار کا میلہ،۔ میلہ مادھو لعل حسین 

گلیوں میں ہر شام چراغاں اور جھلمل لاہور میں ہے 

پھجا، فیقا، نیفا، ماما، اور گوگے کے بونگ چنے 

گورے آ کر جھوم رہے ہیں، اتنا چِل لاہور میں ہے 

دو فٹ چوڑی گلیوں میں اخلاص سے پہیہ چلتا ہے 

پیار سے رشتے بُننے والی واحد مِل لاہور میں ہے 

ہجرت کرنے والے بھی دیہات سے کہہ کر آتے ہیں 

اپنی روزی روٹی،۔ اپنا مستقبل لاہور میں ہے 


عاطف جاوید عاطف 

No comments:

Post a Comment