Sunday, 16 October 2022

آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں

 آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں 

آسیب خموشی کے صبا چیخ پڑے ہیں 

پازیب کے نغموں کی وہ رت بیت چکی ہے 

اب سُوکھے ہوئے پتے اس آنگن میں پڑے ہیں 

چھپ جائیں کہیں آ، کہ بہت تیز ہے بارش 

یہ میرے تِرے جسم تو مٹی کے بنے ہیں 

اس دل کی ہری شاخ پہ جو پھول کھلے تھے 

لمحوں کی ہتھیلی پہ وہ مُرجھا کے گرے ہیں 

اس گھر میں کسے دیتے ہو اب جا کے صدائیں 

وہ ہارے تھکے لوگ تو اب سو بھی چکے ہیں


صبا اکرام

No comments:

Post a Comment