کہیں قبا تو کہیں آستیں بچھاتے ہوئے
میں مر گیا ہوں وفاداریاں نبھاتے ہوئے
عجیب رات تھی آنکھیں ہی لے گئی میری
میں بُجھ گیا تھا چراغِ سحر جلاتے ہوئے
عجیب شخص ہے قُربت کے خواب دے کے مجھے
بچھڑ گیا ہے اچانک ہی مُسکراتے ہوئے
سزا کے طور پہ آنکھیں نکال لیں اُس نے
میں رو پڑا تھا کوئی داستاں سُناتے ہوئے
عجب نہیں تھا کہ دریا لپیٹ لیتا مجھے
میں بھاگ آیا ہوں تشنہ لبی بچاتے ہوئے
درونِ چشم کسی خواب کا جنازہ ہے
نکل رہے ہیں عزادار غم مناتے ہوئے
عجب اُداسی طبیعت میں بھر گئی ہے میاں
تمہارے شہر سے اپنا سفر اُٹھاتے ہوئے
خُدا زمین پہ ہوتا تو پھر علی میثم
کہیں دکھائی تو دیتا وہ آتے جاتے ہوئے
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment