Monday, 3 April 2023

کہیں قبا تو کہیں آستیں بچھاتے ہوئے

 کہیں قبا تو کہیں آستیں بچھاتے ہوئے

میں مر گیا ہوں وفاداریاں نبھاتے ہوئے

عجیب رات تھی آنکھیں ہی لے گئی میری

میں بُجھ گیا تھا چراغِ سحر جلاتے ہوئے

عجیب شخص ہے قُربت کے خواب دے کے مجھے

بچھڑ گیا ہے اچانک ہی مُسکراتے ہوئے

سزا کے طور پہ آنکھیں نکال لیں اُس نے

میں رو پڑا تھا کوئی داستاں سُناتے ہوئے

عجب نہیں تھا کہ دریا لپیٹ لیتا مجھے

میں بھاگ آیا ہوں تشنہ لبی بچاتے ہوئے

درونِ چشم کسی خواب کا جنازہ ہے

نکل رہے ہیں عزادار غم مناتے ہوئے

عجب اُداسی طبیعت میں بھر گئی ہے میاں

تمہارے شہر سے اپنا سفر اُٹھاتے ہوئے

خُدا زمین پہ ہوتا تو پھر علی میثم

کہیں دکھائی تو دیتا وہ آتے جاتے ہوئے


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment