عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے بلندیوں کے مالک میری پستیاں مٹا دے
سرِدست ناتواں ہوں میرا حوصلہ بڑھا دے
میں فراز سے گرا ہوں مجھے سرفراز کر دے
میری بخش دے خطائیں مجھے صبر کی جزا دے
تِری رحمتوں کے صدقے میری ہر خطا بھلا دے
اے بزرگیوں کے مالک میری فکر کو جِلا دے
نہ حساب لے خدایا نہ کتاب کھول میری
میرا کچھ نہیں بچے گا مجھے تو اگر سزا دے
جو نڈھال ہیں غموں سے جنہیں زخم لگ چکے ہیں
جو تپش سے جل گئے ہیں وہی پھول پھر کھلا دے
جنہیں دشمنوں نے لوٹا جنہیں دار پر چڑھایا
تِری چاہ پر ہوں راضی میری چاہ کچھ نہیں ہے
میں تِری رضا کے قرباں میری چاہ بھی دلا دے
تِری رحمتوں سے دوری نہیں ہے مجھے گوارہ
میری لغزشیں مِٹا دے، میرے عیب سب چھپا دے
یہ جو وعدۂِ لقا ہے وہ یہاں نہیں وہاں ہے
تیری دید ہو یہاں بھی کوئی سلسلہ بنا دے
یہی التجا ہے زینب! کہ ہمیشہ ہر قدم پر
کبھی پست ہو نہ یا رب مجھے ایسا حوصلہ دے
سیدہ زینب سروری قادری
No comments:
Post a Comment