Saturday, 10 June 2023

نہ طالب جاہ و حشمت کا نہ سائل سیم و گوہر کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ طالب جاہ و حشمت کا نہ سائل سیم و گوہر کا

ہے کل دنیا سے مستغنی گدا شبیرؑ کے درکا

نہیں ہرگز نہیں ہے خوف دار و گیرِ محشر کا

رہے گا ہاتھ میں دامن مِرے سبط پیمبرﷺ کا

صلہ شاید ملا ہے یہ غم شبیرؑ و شبرؑ کا

دُرِ شہوار ہے ہر اشک میرے دیدۂ تر کا

حسینؑ ابن علیؑ سبطِ نبیﷺ کا پوچھنا کیا ہے

جمال احمدﷺ کا سیرت فاطمہؑ کی علم حیدرؑ کا

تصدق ہو کے شہؑ کے یہ حُرِ جانباز کہتے تھے

ستارہ اوج پر ہے آج تو میرے مقدر کا

جب اکبرؑ رن میں آئے ہو گیا معلوم اعداء کو

ہزاروں پر ہے بھاری ایک تن شبیرؑ کے گھر کا

شہؑ مظلوم کے ہمراہیوں کا واہ کیا کہنا

قدم راہِ وفا میں اک قدم ان کا نہیں سرکا

نچھاور جان اپنی کر رہے تھے شہؑ کے قدموں پر

نہ پروا ان کو جاں کی تھی نہ ان کو ہوش تھا سر کا

لڑے اعداء سے شیروں کی طرح جب تک رہے زندہ

دلایا یاد ان کو بارِ دِگر شیرِ مادر کا

فدائی جب فدا جاں کر رہے تھے شہؑ کے قدموں پر

نہ جانے حال کیا اس دم تھا شہؑ کے قلبِ اطہر کا

کئی صدمے سہے لیکن نہ شہؑ سے اٹھ سکا صدمہ

علی اصغرؑ، علی اکبرؑ کا عباسِؑ دلاور کا

اُدھر مُفسد اِدھر مُصلح اُدھر ناقص اِدھر کامل

اُدھر کثرت، اِدھر قلت، تھا لڑنا کب برابر کا

اُدھر دولت تھی، طاقت تھی، حکومت تھی سیاست تھی

اِدھر کا ہر سپاہی تھا مثنیٰ بس ابو ذر کا

خداجانے کہ ہیں کیا مرتبے ان پاکبازوں کے

کہ جن سے نام قائم رہ گیا دینِ پیمبرﷺ کا

خدا شاہد غذائے روح و ایماں یاد ہے ان کی

ہے حاصل لطف ان کے ذکر میں یادِ مکرر کا

الٰہی واسطہ ان کربلا کے بھوکے پیاسوں کا

الٰہی واسطہ سوکھے ہوئے حلقومِ اصغرؑ کا

عنایت کر ہمیں بھی جذبۂ ایثار و قربانی

بنا ہم کو بھی قابل خدمتِ دینِ پیمبرﷺ کا

الٰہی کر عطا ہم کو بھی زورِ بازوئے حیدرؑ

نظر آ جائے پھر دنیا کو نقشہ فتح خیبر کا

حفاظت دین کی ہم کر سکیں دے اہلیت ایسی

چمن میں دور دورہ پھر چلا ہے بادِ صرصر کا

چلا نقشِ قدم پر حضرتِ شبیرؑ کے ہم کو

رہے ہر وقت دامن ہاتھ میں آلِؑ پیمبرﷺ کا

نکالیں حوصلے دل کے منا کر یوم شہداء ہم

کہ ناممکن ہے ہم سے بھول جانا غم بہتّر کا

کریں آہ و فغاں تو بوجھ شاید دل کا ہلکا ہو

بہیں آنسو تو پورا ہو تقاضا دیدۂ تر کا

نہیں ہیں مجلسیں یہ یوں بھی خالی خیر و برکت سے

کہ ان میں ذکر ہوتا ہے شہیدانِ دلاور کا

غم شبیرؑ میں محمود! جو آنسو بہاتے ہیں

ملے گا ساقئ کوثر سے ان کو جام کوثر کا


سید ابوالفضل محمود قادری

No comments:

Post a Comment