Saturday, 10 June 2023

وفاؤں کے صلے ملتے نہیں ہیں

 وفاؤں کے صلے ملتے نہیں ہیں

وہ عرصے سے گلے ملتے نہیں ہیں

نہ ہو بے داغ جب تک صفحۂ دل

دلوں کے سلسلے ملتے نہیں ہیں

جہاں میں غم کی ارزانی بہت ہے

خوشی کے مرحلے ملتے نہیں ہیں

تو کیا اب باہمی تفہیم ہو گی

ہمارے مشغلے ملتے نہیں ہیں

پسینے سےنہ ہوں سیراب جب تک

شجر پھولے پھلے ملتے نہیں ہیں

حسینوں، عاشقوں کو چھان دیکھا

کہیں دودھوں دُھلے ملتے نہیں ہیں

فراقِ یار سے مانوس ہیں ہم

کہ ہم سے دل جلے ملتے نہیں ہیں

قیامت ہے ضیا اس عمر میں بھی

کہ تجھ سے منچلے ملتے نہیں ہیں


امین ضیا

No comments:

Post a Comment