وفاؤں کے صلے ملتے نہیں ہیں
وہ عرصے سے گلے ملتے نہیں ہیں
نہ ہو بے داغ جب تک صفحۂ دل
دلوں کے سلسلے ملتے نہیں ہیں
جہاں میں غم کی ارزانی بہت ہے
خوشی کے مرحلے ملتے نہیں ہیں
تو کیا اب باہمی تفہیم ہو گی
ہمارے مشغلے ملتے نہیں ہیں
پسینے سےنہ ہوں سیراب جب تک
شجر پھولے پھلے ملتے نہیں ہیں
حسینوں، عاشقوں کو چھان دیکھا
کہیں دودھوں دُھلے ملتے نہیں ہیں
فراقِ یار سے مانوس ہیں ہم
کہ ہم سے دل جلے ملتے نہیں ہیں
قیامت ہے ضیا اس عمر میں بھی
کہ تجھ سے منچلے ملتے نہیں ہیں
امین ضیا
No comments:
Post a Comment