عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھی نبیﷺ کی شان، پشیمان ہو گئے
کُفّار کلمہ پڑھ کے مُسلمان ہو گئے
حُسنِ رسولِ پاکؐ کا کیا تذکرہ کروں
جِن و مَلک بھی آپؐ پہ قربان ہو گئے
آمد سے اُنؐ کی آ گئی ایمان کی بہار
جتنے تھے بُتکدے سبھی ویران ہو گئے
جیسے قدم پڑے مِرے سرکارؐ کے وہاں
صحرا بھی نقشِ پا سے گُلستان ہو گئے
محشر میں جب وہ آ گئے رحمت لیے ہوئے
اپنی شفاعتوں کے بھی اِمکان ہو گئے
زرتاب اُنؐ کے روضے پہ جس دم نظر پڑی
دُشوار جو تھے راستے آسان ہو گئے
زرتاب غزل
No comments:
Post a Comment