Sunday, 8 March 2015

مجھ سے بنتا ہوا تو تجھ کو بناتا ہوا میں

مجھ سے بنتا ہوا تُو تجھ کو بناتا ہوا میں
گیت ہوتا ہوا تُو، گیت سناتا ہوا میں
ایک کُوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں
نقش دیتا ہوا تُو، چاک گھماتا ہوا میں
تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ
میں بناتا ہوں کہیں دُور سے آتا ہوا میں

جو مری ذات کے منافی ہیں

جو مِری ذات کے منافی ہیں
میری تصدیق کو وہ کافی ہیں
کام شاید تمہارے آ جائیں
ہم جو اپنے لیے اضافی ہیں
بس وہ آنکھیں جو پھیر لیں تُو نے
تیرے ہر جرم کی تلافی ہیں

Sunday, 1 March 2015

نئی تراش بھی لاؤ نئے خیال کے ساتھ

نئی تراش بھی لاؤ، نئے خیال کے ساتھ 
سخن تمام نہیں ہو رہا کمال کے ساتھ
شکم کی آگ ہی کچھ ایسی کافرانہ تھی 
حرام کرنا پڑی لقمۂ حلال کے ساتھ
یہ کون راگ میں الجھا دئیے گئے ہم لوگ 
کسی کے سُر نہیں ملتے کسی کی تال کے ساتھ

کچھ اہتمام نہ تھا شام غم منانے کو

کچھ اہتمام نہ تھا شامِ غم منانے کو 
ہوا کو بھیج دیا ہے چراغ لانے کو
ہمارے خواب سلامت رہیں تمہارے ساتھ 
یہ بات کافی ہے دنیا کی نیند اڑانے کو
ہمارا خون کسی کام کا نہیں بھائی
یہ پانی ٹھیک ہے لیکن دیے جلانے کو

سفر کا اختتام کر نہیں رہا

سفر کا اختتام کر نہیں رہا 
ابھی تو میں قیام کر نہیں رہا 
بنا رہا ہوں جو ابھی بنا نہیں 
جو بن چکا ہے عام کر نہیں رہا 
مزاجِ دشت ان دنوں عجیب ہے 
کسی کا احترام کر نہیں رہا 

اس قدر عام تو نہیں ہوتے

اس قدر عام تو نہیں ہوتے
شعر، الہام تو نہیں ہوتے
عشق میراث میں نہیں ملتا
خواب نیلام تو نہیں ہوتے
قیس، فرہاد، لیلیٰ و شیریں
یہ فقط نام تو نہیں ہوتے

روبرو عکس پریشان بھی کر سکتے ہیں

روبرو عکس پریشان بھی کر سکتے ہیں 
آئینے! ہم تجھے حیران بھی کر سکتے ہیں
کوئی مشکل ہے تو بتلاؤ، کوئی حل سوچیں
کوئی الجھن ہے تو آسان بھی کر سکتے ہیں
چھوڑ سکتے ہیں تری نیند چرانے کا خیال 
ہم تجھے بے سر و سامان بھی کر سکتے ہیں