Tuesday, 10 March 2015

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ چپ رہو

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو
سو رہے ہیں درد ان کو مت جگاؤ، چُپ رہو
رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر
صبح ہونے تک نہ بولو ہمنواؤ، چُپ رہو
بند ہیں سب میکدے، ساقی بنے ہیں محتسب
اے گرجتی، گونجتی کالی گھٹاؤ، چُپ رہو

ترے گلے میں اگر موتیوں کی مالا ہے

ترے گلے میں اگر موتیوں کی مالا ہے
یہ سوچ کس نے مکان اپنا بیچ ڈالا ہے
ہمیشہ جھوٹ ہم آپس میں بولتے آئے
نہ میرے دل میں، نہ تیری زباں پہ چھالا ہے
جو سب نے دیکھ لیا میں بھی اس کو دیکھ سکوں
کوئی بتائے وہ کس رنگ کا اجالا ہے

Sunday, 8 March 2015

مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا

مِری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا
سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا
مِرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو
تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا
مِرے دریا نے اپنے ہی کنارے کاٹ ڈالے
بپھرتے پانیوں کا اب سہارا کون دے گا

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر
سارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہر
بے گھر ہونا، بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا
گھر کے اندر گھر نہیں پایا، شہر میں پایا شہر
سات سمندر پار بھی آنکھیں میرے ساتھ نہ آئیں
چاروں جانب خواب ہیں میرے اور پرایا شہر

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے
جس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئے
تتلیوں نے کاغذی پھولوں پہ ڈیرا کر لیا
راستے میں جگنوؤں کے بال و پر چھینے گئے
اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے
دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے

مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جائے

مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جائے
میرا کیا جرم ہے، اتنا تو بتایا جائے
میری پہچان کی گٹھڑی مجھے واپس کر دو
میرے چہرے پہ مِرا چہرہ سجایا جائے
میری آنکھوں پہ مِری آنکھیں لگائی جائیں
اب کوئی قیمتی پتھر نہ لگایا جائے

عالم ہے سر آئینہ ہو کا مرے آگے

عالم ہے سرِ آئینہ ہُو کا مِرے آگے
بے چہرہ ہوا جاتا ہے چہرہ مِرے آگے
موہوم ہوئے جاتے ہیں آنکھوں کے شرارے
ہر رنگ پڑا جاتا ہے کالا مِرے آگے
دیکھا نہیں جاتا میں دکھاتا وہ تماشا
ہوتا جو کوئی دیکھنے والا مِرے آگے