مِری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا
سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا
مِرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو
تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا
مِرے دریا نے اپنے ہی کنارے کاٹ ڈالے
بپھرتے پانیوں کا اب سہارا کون دے گا
اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر
سارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہر
بے گھر ہونا، بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا
گھر کے اندر گھر نہیں پایا، شہر میں پایا شہر
سات سمندر پار بھی آنکھیں میرے ساتھ نہ آئیں
چاروں جانب خواب ہیں میرے اور پرایا شہر
ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے
جس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئے
تتلیوں نے کاغذی پھولوں پہ ڈیرا کر لیا
راستے میں جگنوؤں کے بال و پر چھینے گئے
اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے
دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے
مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جائے
میرا کیا جرم ہے، اتنا تو بتایا جائے
میری پہچان کی گٹھڑی مجھے واپس کر دو
میرے چہرے پہ مِرا چہرہ سجایا جائے
میری آنکھوں پہ مِری آنکھیں لگائی جائیں
اب کوئی قیمتی پتھر نہ لگایا جائے
عالم ہے سرِ آئینہ ہُو کا مِرے آگے
بے چہرہ ہوا جاتا ہے چہرہ مِرے آگے
موہوم ہوئے جاتے ہیں آنکھوں کے شرارے
ہر رنگ پڑا جاتا ہے کالا مِرے آگے
دیکھا نہیں جاتا میں دکھاتا وہ تماشا
ہوتا جو کوئی دیکھنے والا مِرے آگے