Friday, 30 January 2015

بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن​

بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن​
ہیں تیرے خواب کی راتیں، ترے خیال کے دن​
فراقِ جاں کا زمانہ گزارنا ہو گا​
فغاں سے کم تو نہ ہوں گے یہ ماہ و سال کے دن
ہر اِک عمل کا وہ کیا کیا جواز رکھتا ہے​
نہ بن پڑے گا جواب ایک بھی، سوال کے دن​

روشنی ختم ہوئی اہل نظر باقی ہیں​

روشنی ختم ہوئی، اہلِ نظر باقی ہیں​
جنہیں دستار میسر ہے، وہ سر باقی ہیں​
کاٹ لیتے ہیں کبھی شاخ، کبھی گردنِ دوست​
اب بھی چند ایک روایاتِ سفر باقی ہیں
اپنے ہمسایوں کا غم بھی ہے اور اپنا غم بھی ہے​
اس تگ و دو میں غنیمت ہے کہ گھر باقی ہیں​

لفظ تو ہوں لب گفتار نہ رہنے پائے​

لفظ تو ہوں، لبِ گفتار نہ رہنے پائے​
اب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے​
کس طرح کے ہیں مکیں، جِن کی تگ و دو ہے یہی​
در تو باقی رہیں، دیوار نہ رہنے پائے​
اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہے​
ایک ہی صورتِ آزار نہ رہنے پائے​

وہ ساتھ لے گیا قول و قرار کا موسم​

نذرِ فیض​
وہ ساتھ لے گیا قول و قرار کا موسم​
تمام عمر ہے اب انتظار کا موسم​
حیات اب بھی کھڑی ہے اسی دوراہے پر​
وہی ہے جبر، وہی اختیار کا موسم​
ابھی تو خود سے ہی فارغ نہیں ہیں اہلِ جمال​
ابھی کہاں دلِ امیدوار کا موسم​

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے

جو غم شناس ہو، ایسی نظر تجھے بھی دے​
یہ آسماں غمِ دیوار و در تجھے بھی دے​
سخن گلاب کو کانٹوں میں تولنے والے​
خدا سلیقۂ عرضِ ہُنر تجھے بھی دے​
خراشیں روز چنے اور دل گرفتہ نہ ہو​
یہ ظرفِ آئینہ، آئینہ گر تجھے بھی دے​

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا​

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا​
چاہے جانے کے سبھی عیب و ہُنر رکھتا تھا​
لاتعلق نظر آتا تھا بظاہر، لیکن​
بے نیازانہ ہر اِک دل میں گزر رکھتا تھا​
اس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سے​
وہ الگ اپنا اِک اندازِ نظر رکھتا تھا​

ملے تھے خوف سے بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​
گزار دیں گے اسی خوشگوار یاد کے ساتھ​
یہ ذوق و شوق فقط لطفِ داستاں تک ہے​
سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ​
زمانہ جتنا بکھیرے، سنورتا جاؤں گا​
ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ​