Sunday, 8 November 2015

خانہ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے

خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
چشمِ تر سے آخری آنسو جدا ہونے کو ہے
یہ بھی اے دل اک فریبِ وعدۂ فردا نہ ہو
روز سنتا ہوں کہ کوئی محشر بپا ہونے کو ہے
دور ہوں لیکن بتا سکتا ہوں ان کی بزم میں
کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، اور کیا ہونے کو ہے
کھل رہی ہے آنکھ اک کافر حسین کی صبحدم
مے کشو مژدہ، درِ مے خانہ وا ہونے کو ہے
ترکِ الفت کو زمانہ ہو گیا شکیلؔ
آج پھر میرا اور ان کا سامنا ہونے کو ہے

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment