آج بھی آپ گئے ملنے اس کے گھر، پھر کل جائیں گے
طالبؔ صاحب آگ سے مت کھیلیں، بالآخر جل جائیں گے
وہ اپنے گھر کی رونق بن جائے تو ہم وعدہ کرتے ہیں
اپنے گھر واپس جا کر گھر کے ماحول میں ڈھل جائیں گے
رسی جل گئی لیکن اس کے بل شعلوں پر خندہ زن ہیں
حدِ نظارہ تک خشخاش کے نیلے پودے تھے اور میں تھا
دل نے کہا تھا آنکھ جھکا لے ورنہ پودے جل جائیں گے
ذہن کے سب کھڑکی دروازے کھول کے اندر جھاڑو دے دو
کب سے حجرہ بند پڑا ہے اس میں بچھو پل جائیں گے
اس نے مجھ سے عذر تراشے یعنی وہ یہ جان رہا تھا
ایک یہی دکان ہے جس پر کھوٹے سکے چل جائیں گے
طالب جوہری
No comments:
Post a Comment