Monday, 11 January 2016

خواب بھی وصل واقعہ بھی ہے

خواب بھی وصل واقعہ بھی ہے
جو نہیں بھی ہوا، ہوا بھی ہے
وہ بتِ بے نیاز کیا دیکھے
بزم میں کوئی دوسرا بھی ہے
اف نہ کی ہم نے جان جانے تک
صبر کی کوئی انتہا بھی ہے
جیسا اندھیر ہو رہا ہے 
کوئی دیکھا بھی، سنا بھی ہے 
زندگی نے نہیں دیا بس چین
گو بہت کچھ ہمیں دیا بھی ہے
جانتے ہیں سب ہی اے شعورؔ بہت
آپ کو کوئی پوچھتا بھی ہے​

انور شعور​

No comments:

Post a Comment