خواب بھی وصل واقعہ بھی ہے
جو نہیں بھی ہوا، ہوا بھی ہے
وہ بتِ بے نیاز کیا دیکھے
بزم میں کوئی دوسرا بھی ہے
اف نہ کی ہم نے جان جانے تک
جیسا اندھیر ہو رہا ہے
کوئی دیکھا بھی، سنا بھی ہے
زندگی نے نہیں دیا بس چین
گو بہت کچھ ہمیں دیا بھی ہے
جانتے ہیں سب ہی اے شعورؔ بہت
آپ کو کوئی پوچھتا بھی ہے
انور شعور
No comments:
Post a Comment