Wednesday, 6 January 2016

خلوت بے نشان میں پھول کھلے نشان کے

خلوتِ بے نشان میں پھول کھلے نشان کے
وحشتِ دل بھی سو گئی چادرِ ماہ تان کے
اپنے لباسِ جاں پہ بھی صاحبو ٹک نظر کرو
ہنستے رہو گے کب تلک ہم کو غریب جان کے
خلوتیانِ کنج ہوش تشنہ لبانِ یم بہ دوش
میرے حریف تھے مگر لوگ تھے آن بان کے
موج بہ موج یم بہ یم بادِ مراد ساتھ تھی
ناؤ سے رد نہ ہو سکے فیصلے بادبان کے
تیری گلی میں جاگ کر ہم نے بھی جُگ بِتائے ہیں
ہم پہ بھی فاش ہوں کبھی رنگ تِرے مکان کے
کیا وہ نگاہِ رنگ و بو گاؤں سے کوچ کر گئی
گنگ ہے نِیم کا درخت خشک ہیں کھیت دھان کے

طالب جوہری

No comments:

Post a Comment