کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا
پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا
میاں! اس اشتہاروں کی دکاں میں جو نہیں وہ ہے
یہ آنکھیں ہار جائیں گی، تماشا جیت جائے گا
برابر ہی چھڑا دے گی بالآخر مصلحت ہم کو
مگر رکھنی ہے اپنے حوصلے کی آبرو تُو نے
مجھے معلوم ہے تُو زخم کھا کر مسکرائے گا
زرِ گمنام کو پھر ڈھونڈھ کر آثارِ فردا میں
زمانہ دیر تک میرے لیے آنسو بہائے گا
آفتاب اقبال شمیم
No comments:
Post a Comment