Tuesday, 5 January 2016

کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا

کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا
پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا
میاں! اس اشتہاروں کی دکاں میں جو نہیں وہ ہے
یہ آنکھیں ہار جائیں گی، تماشا جیت جائے گا
برابر ہی چھڑا دے گی بالآخر مصلحت ہم کو
میں تجھ کو آزماؤں گا، تُو مجھ کو آزمائے گا
مگر رکھنی ہے اپنے حوصلے کی آبرو تُو نے
مجھے معلوم ہے تُو زخم کھا کر مسکرائے گا
زرِ گمنام کو پھر ڈھونڈھ کر آثارِ فردا میں
زمانہ دیر تک میرے لیے آنسو بہائے گا

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment