تیری یادوں کو بلا کر تِرے گیسو کی طرح
پہنے رہتے ہیں دریچے مِری خوشبو کی طرح
ہائے جب ہجر کی شب میں تِرے بوسوں کی مٹھاس
پھیل جاتی ہے مِرے ہونٹوں پہ جادو کی طرح
تو مِرے باغ سے توڑے ہوئے غنچے کی مثال
آسماں بانٹتا رہتا ہے نصیبے اخترؔ
دن کو موتی کی طرح رات کو آنسو کی طرح
سعید احمد اختر
No comments:
Post a Comment