چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے
جو میرے جسم میں رہتا تھا، میری جان سے پہلے
مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دو
نکل جائے نہ میری جان، میرے ارمان سے پہلے
کوئی خاموش ہو جائے تو اس کی خامشی سے ڈر
سمندر چپ ہی رہتا ہے، کسی طوفان سے پہلے
میری آنکھوں میں آبی موتیوں کا سلسلہ دیکھو
یہ مالا روز جپتا ہوں میں، اک مسکان سے پہلے
پرانا یار ہوں دوشیؔ! یہ میرا فرض بنتا ہے
تجھے ہشیار کر دوں میں تِرے نقصان سے پہلے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment