Sunday, 4 December 2016

عورت کیا ہے زلف صنوبر

عورت کیا ہے؟

عورت کیا ہے، زلفِ صنوبر
کب تک زلف نہ جھولا جھولے گی ساون کی جھڑیوں میں
عورت کیا ہے، بوئے گل تر
کب تک قید رہے گی بوئے گل نازک پنکھڑیوں میں
عورت کیا ہے، ساز کی دھڑکن
کب تک دھڑکن بند رہے گی ساز کی سیمیں تاروں میں

عورت کیا ہے، پیار کی جوگن
کب تک پیار کی جوگن یوں رسوا ہوگی بازاروں میں
عورت کیا ہے، مے کیا پیالہ
کب تک اس کی تلخی کو تفریحاً چکھا جائے گا
عورت کیا ہے، دیپ اجالا
کب تک آخر اس کو تاریکی میں رکھا جائے گا
عورت کیا ہے، دامن گلچیں
کب تک گل چیں کے دامن کی سوئی آگ نہ جاگے گی
عورت کیا ہے، تن پرچھائیں
کب تک یہ پرچھائیں تن کے پیچھے پیچھے بھاگے گی
عورت کیا ہے، نیند کی داعی
کب تک نیند بھری آنکھوں میں‌ آنسو مرچیں جھونکیں گے
عورت کیا ہے، سندر راہی
کب تک رہزن اس راہی کے دل میں‌ خنجر بھونکیں گے
عورت کیا ہے، جنسِ محبت
کب تک جنسِ محبت کو یوں گاہک دیکھیں بھالیں گے
عورت کیا ہے، روپ کی دولت
کب تک روپ کے ڈاکو اس دولت پر ڈاکے ڈالیں گے
عورت کیا ہے، رُت البیلی
لیکن اس البیلی رُت کے من کا اجالا کوئی نہیں
عورت کیا ہے، ایک پہیلی
لیکن یہ رنگین پہیلی بوجھنے والا کوئی نہیں
عورت کیا ہے، اک کم عقلی
لیکن اب کم عقلی اور دانش میں ٹھنتی جاتی ہے
عورت کیا ہے، ایک کمزوری
لیکن اب یہ کمزوری اک طاقت بنتی جاتی ہے
عورت کے دل کو پہچانو شبنمؔ
جیسے دل میں انگاروں کی دنیا سوتی ہے
عورت کو مجبور نہ جانو
ہر مجبوری کی اے یارو! آئینہ اک حد ہوتی ہے

شبنم رومانی

No comments:

Post a Comment