ساغر اٹھا کہ زہد کو رد ہم نے کر دیا
پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا
وقت اپنا زر خرید تھا، ہنگامِ مۓ کشی
لمحے کو طول دے کے ابد ہم نے کر دیا
میخانے سے چلی جو کبھی روٹھ کر بہار
دل پندِ واعظاں سے ہوا ہے اثر پذیر
اس کو خراب صحبتِ بد ہم نے کر دیا
دیکھا جو شب کو زاویۂ سینۂ بتاں
اشکالِ ہندسہ کو بھی رد ہم نے کر دیا
تسبیح سے سبو کو بدل کر خدا کو آج
بالا تر از شمار و عدد ہم نے کر دیا
رِندی کا وہ کسی میں سلیقہ کہاں ہے اب
ضائع یہ ترکۂ اب وجد ہم نے کر دیا
بادہ تھا یا عروسِ فراست تھی جام میں
جو کہہ دیا بہک کے سند ہم نے کر دیا
زاہد کو خانقاہ میں ملتی کہاں شراب
لیکن کچھ اہتمامِ رسد ہم نے کر دیا
تسخیرِ شاہدانِ گل اندام کے لیے
ہر شب کو نذرِ کاوش و کد ہم نے کر دیا
مصرعوں میں گیسوؤں کی فصاحت کا بھر کے رنگ
اپنی ہر اک غزل کو سند ہم نے کر دیا
تشبیہ دے کے قامتِ جاناں کو سرو سے
اونچا ہر اک سرو کا قد ہم نے کر دیا
پہنچے کسی کے عشق میں ماہ و نجوم تک
حدِ سما کو شوق کی حد ہم نے کر دیا
پھر اس عقیق لب پہ سبو رکھ دیا ظفرؔ
پھر شمس کو سپردِ اسد ہم نے کر دیا
سراج الدین ظفر
No comments:
Post a Comment