جو تمہارے قریب ہوتے ہیں
وہ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں
سیر کو آئے زخم کھا کے چلے
حادثے بھی عجیب ہوتے ہیں
ہم قریب آ کر اور دور ہوئے
ڈھونڈتے ہیں دوائے دردِ دل
چارہ گر بھی عجیب ہوتے ہیں
مستقل وصلِ ساقئ و صہبا
دن یہ کس کو نصیب ہوتے ہیں
خوب تقسیمِ عیش و غم یہ رہی
غم ہمِیں کو نصیب ہوتے ہیں
جب بگڑتے ہیں بات بات پہ وہ
وصل کے دن قریب ہوتے ہیں
وصل میں وہ مزا کہاں ساحرؔ
ہجر میں جو نصیب ہوتے ہیں
ساحر ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment