Wednesday, 4 January 2017

دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا

دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا
حسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتا
میں اگر ملتا نہ اس سے اس ازل کی شام میں
خواب ان دیوار و در کا دل میں کیسے جاگتا
ہے مثالِ بادِ گلشن جاگنا اس شوخ کا
رنگ جیسے دور کا رنگوں کا پیچھے جاگتا
اب وہ گھر باقی نہیں پر کاش اس تعمیر سے
ایک شہرِ آرزو آنکھوں کے آگے جاگتا
چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
دیکھنا پھر بحر کو اسکی کشش سے جاگتا

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment