دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا
حسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتا
میں اگر ملتا نہ اس سے اس ازل کی شام میں
خواب ان دیوار و در کا دل میں کیسے جاگتا
ہے مثالِ بادِ گلشن جاگنا اس شوخ کا
اب وہ گھر باقی نہیں پر کاش اس تعمیر سے
ایک شہرِ آرزو آنکھوں کے آگے جاگتا
چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
دیکھنا پھر بحر کو اسکی کشش سے جاگتا
منیر نیازی
No comments:
Post a Comment