کیا کشش حسنِ روزگار میں ہے
غم بھی ڈوبا ہوا بہار میں ہے
جب سے کھائے ہیں اس نظر کے فریب
میرا دل میرے اختیار میں ہے
دل کی دھڑکن یہ دے رہی ہے صدا
نالۂ نیم شب کو غور سے سن
ایک نغمہ بھی اس پکار میں ہے
کھول دے بابِ مۓ کدہ ساقی
اک فرشتہ بھی انتظار میں ہے
محوِ گردش ہے کائنات شکیلؔ
میری تقدیر کس شمار میں ہے
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment