Wednesday, 15 July 2020

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے 'حادثہ' ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے
رات بھر بستر 'مِرا' جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئے
دل ہمارا 'پھولتا پھلتا' رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر 'دِیا' جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقی دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment