Thursday, 23 July 2020

برسوں خواب پڑے رہتے تھے آنکھوں کی الماری میں

برسوں خواب پڑے رہتے تھے آنکھوں کی الماری میں
میں ہی سُستی کر جاتی تھے چُننے کی دشواری میں
اماں بابا کے سائے میں جو گھر کی "شہزادی" تھی
سپنے "بیچنے" آئی ہے وہ "مجبوری" ناداری میں 
سچ کہتے ہیں خوابوں کی تعبیریں الٹی ہوتی ہیں
مجھ کو خواب میں ملنے والے چھوڑ گئے بیداری میں
ماضی حال و مستقبل کے دھاگے الجھے رہتے ہیں
گرہیں کھولتی رہتی ہوں میں تنہا شب بیداری میں
گھر کی "خستہ" دیواروں کو آپ "گرانا" پڑتا ہے
ہوتا ہے "تعمیر" کا "پہلو" چیزوں کی "مسماری" میں
میں بھی لڑتے لڑتے اس کے سینے سے لگ جاتی ہوں
شکوے دل سے بہہ جاتے ہیں سارے گریہ زاری میں
وہ بھی "تنہا" رات گئے تک اب سڑکوں پر "پھرتا" ہے
میرے ہاتھ بھی جل جاتے ہیں، کھانے کی تیاری میں

فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment