Saturday, 11 July 2020

تو اس مرض کی بھی گویا دوا بنی ہوئی ہے

اداسی، روح کی، امشب غذا بنی ہوئی ہے
کہو تو تازہ سناؤں؟ فضا بنی ہوئی ہے
یہ کینوس ہے کہ دست طلب مصور کا
یہ ماہتاب نہیں ہے، دعا بنی ہوئی ہے
لویں تو ایسے لرزتی ہیں ان چراغوں پر
انہی کے واسطے جیسے ہوا بنی ہوئی ہے
علاج پہلی محبت کا دوسری سے کروں؟
تو اس مرض کی بھی گویا دوا بنی ہوئی ہے
مری کسی سے نہیں بنتی، ہاں مگر خود سے
بنی ہوئی ہے تو بے شک بجا بنی ہوئی ہے

انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment