Sunday, 19 July 2020

رہیں نہ رند یہ واعظ کے بس کی بات نہیں

رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی
فقط اسیرئ "دام و قفس" کی بات نہیں
نگاہِ دوست سے ہوتی ہے دل کی نشوونما
یہاں مقابلۂ خار و خس کی بات نہیں
پسندِ خاطرِ اہلِ صفا ہے میری غزل
کہ اس میں کوئی ہوا و ہوس کی بات نہیں
نگاہ بھی نہیں اٹھتی بلندیوں کی طرف
طلب کا ذکر نہیں، دسترس کی بات نہیں
اسد یہ کام ہے صد گونہ سینہ کاوی کا
حیات صرف شمار و نفس کی بات نہیں

اسد ملتانی

No comments:

Post a Comment