رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی
فقط اسیرئ "دام و قفس" کی بات نہیں
نگاہِ دوست سے ہوتی ہے دل کی نشوونما
پسندِ خاطرِ اہلِ صفا ہے میری غزل
کہ اس میں کوئی ہوا و ہوس کی بات نہیں
نگاہ بھی نہیں اٹھتی بلندیوں کی طرف
طلب کا ذکر نہیں، دسترس کی بات نہیں
اسد یہ کام ہے صد گونہ سینہ کاوی کا
حیات صرف شمار و نفس کی بات نہیں
اسد ملتانی
No comments:
Post a Comment