پکے پھل ٹپکتے ہیں
(کورونا وبا کے پس منظر میں ایک نظم)
مِرے مالک
تِری دنیا میں کتنے رنگ بکھرے ہیں
چمن میں پھول کھل کر
ذہن کی ساری تھکن کو دور کرتے ہیں
کہیں فرش زمیں پر
انگنت اشیائے خور و نوش کی کثرت سے
احساسِ تشکر سے
مِری اس چشمِ حیراں میں نمی سی تیر جاتی ہے
ادھر آلودگی کے بوجھ سے
بوجھل فضائوں میں بھی صحت بخش
فصلیں لہلہاتی ہیں
مِرے مالک
ادھر ان نعمتوں سے جگمگاتی تیری دنیا میں
وبا کیسی یہ پھیلی ہے؟
کہ جس کی زد میں آ کر یہ رسیلے پھل
فنا کی گود بھرتے ہیں
زمیں جو کل تلک سونا اگلتی تھی
چٹختی ہے، تڑپتی ہے
فضائے زہر آلودہ کے بیچوں بیچ پژمردہ گلوں کی
رنگ برنگی پتیاں چُرمُراتی ہیں
رسیلے پھل جو اپنی اک الگ پہچان رکھتے تھے
وہ اپنی آج یہ پہچان کھو بیٹھے
خود اپنے ہوش بھی انسان کھو بیٹھے
دُہائی ہے، دُہائی ہے
وہی انسان اے مالک
کہ تُو نے جس کی خاطر
یہ حسین جنت سجائی تھی
وہی انسان جس کو
اشرف المخلوق کا تُو نے لقب بخشا
وہی انسان 'کورونا وبا' کی تیز اندھی میں
بلا تخصیص مرتے ہیں
کہ جیسے
پیڑ کی شاخوں سے پکے پھل ٹپکتے ہیں
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment