بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے
پرانے گھر میں تنہائی نئی ہے
بہت جاگا ہوں ان آنکھوں کے ہمراہ
مگر اب "نیند" آتی جا رہی ہے
ہم ایسے "گُمرہانِ" نیم شب کا
پلٹ کر دیکھ لے تو ٹوٹ جائے
یہاں ہر شخص اتنا اجنبی ہے
وہ چہرہ ہٹ چکا ہے کب کا لیکن
دریچے میں ابھی تک روشنی ہے
وہی رستے ہیں زیرِپا ابھی تک
سلیم اب تک وہی "آوارگی" ہے
سلیم کوثر
No comments:
Post a Comment