Saturday, 11 July 2020

جو آج غلغلۂ احتجاج دوراں ہے

جو آج "غلغلۂ" احتجاجِ "دوراں" ہے
یہ احتجاج نہیں، احتیاجِ "انساں" ہے
نجانے کب سے وہ دل میں مِرے چمکتا ہے
جو درد ان کی نگاہوں سے اب نمایاں ہے
کہیں زمانے سے روٹھی ہوئی وفا تو نہیں
وہ دور افق پہ ستارہ جو ایک لرزاں ہے
یہ تُو نے کون سے عالم میں لا کے چھوڑ دیا
دل اضطراب بداماں، نگاہ "حیراں" ہے
بہار" آئی مگر پھول "مسکرا" نہ سکے"
دل اس فریبِ بہاراں پہ کیوں پریشاں ہے
غمِ "اسیری" کو تم کیا سمجھ رہے ہو سلام
غمِ اسیری "بِنائے" شکستِ زنداں ہے

عین سلام

No comments:

Post a Comment