وہ اک چھوٹی سی بستی تھی
جہاں کچھ روشنی زادے
سراج النُّور کی کرنوں میں جیون کی نئی تعلیم لیتے تھے
روا داری کا شہرہ تھا
تواضع کے لیے جو بہتریں سوغات ہوتی تھی
کھجوریں تھیں
کھجوریں مفت ملتی تھیں
کوئی پیاسا چلا آتا تو اس سے یہ نہیں دریافت ہوتا تھا
کہ تم ہم میں سے ہو یا غیر ہو کوئی
کسی کوزے پہ کب لکھا ہوا ہوتا تھا
'ایں کوزہ برائے اہلِ ایمان است'
تھکے ہارے مسافر مسجدِ نبویؐ میں آتے، دیر تک آرام کرتے تھے
اقامت اور عبادت کی سبھی آسائشیں (جو آج کل ممنوع ہیں) وہ سب کو حاصل تھیں
خدا کا گھر تھا اور بندوں کو اپنا گھر ہی لگتا تھا
کبھی چشمِ تصور جب درودِ تاج پڑھتی ہے تو منظر کھلنے لگتے ہیں
سنہری روشنی کرتے
ملائم نرم لہجوں میں سخی آقاؐ کے در پر حاضری کی گفتگو کرتے کئی چہرے
اُدھر مقداد ہیں، میثم کھڑے ہیں
حضرتِ سلمانؓ آتے ہیں
ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ بھی درِ مولاؐ پہ حاضر ہیں
عشا کا وقت ہے اور حبش کا خوشبو بھرا لہجہ اذاں آغاز کرتا ہے
صفیں ترتیب پاتی ہیں
کسی کو کچھ پریشانی، نہ گھر جانے کی عجلت ہے
خدایا
کیسی رحمت ہے
خدایا کیسی رحمت تھی
محبت بولنے والے 'محبت' بولتے تھے اور کانوں میں 'محمدﷺ' کی صدا آتی
محمدﷺ اور محبت ایک ہی تو ہیں
تو جب چشمِ تصور لوٹ کر آئے تو پھر مجذوب کے ادھڑے ہوئے سینے کو چھو کر پوچھتی بھی ہے
بتاؤ تو
کہ یہ سب کون ہیں جو دین کو وحشت بناتے ہیں؟
رواداری پہ جو پہرے لگاتے ہیں
بھلا یہ کون ہیں؟ جن کو محبت کا کوئی معنی نہیں آتا
میں روتا ہوں کہ رونے کے سوا چارہ نہیں کوئی
بھلا اک نظم میں ان چودہ صدیوں کی محبت کس طرح لاؤں؟
بھلا میں ایک شاعر، ایک مجنونِ ہنر برباد ان سوئے ہوؤں کو کیا جگا پاؤں
جنہیں معلوم ہی کب ہے
کہ اس عہدِ جہالت سے بہت پہلے وہ اک عہدِ منور تھا
رواداری کا شہرہ تھا
کھجوریں مفت ملتی تھیں
علی زریون
No comments:
Post a Comment